فهرس الكتاب

الصفحة 4587 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

باب: سونے کی جگہ چاندی لینا اور چاندی کی جگہ سونا لینا اور حضرت ابن عمرؓ کی روایت کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر

4587 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ ابْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ أَوْ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ إِذَا بَايَعْتَ صَاحِبَكَ فَلَا تُفَارِقْهُ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں سونے کا چاندی کے ساتھ اور چاندی کا سونے کے ساتھ سودا کیا کرتا تھا۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ بات بتلائی تو آپ نے فرمایا: ''جب تو اپنے ساتھی سے (اس قسم کا) سودا کرے تو اس سے ایسی حالت میں جدا نہ ہو کہ تیرے اور اس کے درمیان کوئی شبہات والی چیز باقی ہو۔''

''شبہات والی چیز باقی ہو۔'' یعنی نقد ادائیگی ہونی چاہیے، ادھار نہ ہو جیسا کہ پیچھے تفصیل سے گزرا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت