فهرس الكتاب

الصفحة 4375 من 5761

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل

باب: لنگڑے جانورکا بیان

4375 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَأَبُو دَاوُدَ وَيَحْيَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَأَبُو الْوَلِيدِ قَالُوا أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ حَدِّثْنِي مَا كَرِهَ أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَضَاحِيِّ قَالَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ لَا يَجْزِينَ فِي الْأَضَاحِيِّ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لَا تُنْقِي قَالَ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ قَالَ فَمَا كَرِهْتَ مِنْهُ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ

حضرت عبید بن فیروز سے منقول ہے کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے بیان فرمائیے کہ رسول اللہ ﷺ نے کن جانوروں کی قربانی سے منع فرمایا ہے یا ناپسند فرمایا ہے؟ وہ فرمانے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے یوں اشارہ فرمایا:… اور میرا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے… ''چار جانور قربانی میں کفایت نہیں کرتے: کانا جس کا کانا پن واضح ہو، بیمار جس کی بیماری واضح ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو اور وہ جانور جس کی ہڈی ٹوٹ چکی ہو اور وہ اتنا کمزور ہو چکا ہو کہ اس میں گودا باقی نہ رہا ہو۔'' میں نے کہا: میں تو کان اور سینگ کے نقص کو بھی ناپسند کرتا ہوں۔ وہ فرمانے لگے: جس کو تو ناپسند کرتا ہے اسے قربانہ نہ کر لیکن اسے دوسروں کے لیے حرام قرار نہ دے۔

معلوم ہوا تھوڑا بہت لنگڑا پن جو غور کیے بغیر محسوس نہ ہوتا ہو یا صرف بھاگتے ہوئے محسوس ہوتا ہو، قربانی میں عیب نہیں ہے۔ اسی طرح دوسرے عیوب غیر محسوس حد تک معاف ہیں۔ واللہ اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت