فهرس الكتاب

الصفحة 1934 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

1934 أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ فَقَالَ عُمَرُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقُلْتَ وَجَبَتْ فَقَالَ مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی تعریف کی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''لازم ہوگئی۔'' ایک اور جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''واجب ہوگئی۔'' حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! ایک جنازہ گزرا، اس کی اچھی تعریف ہوئی تو آپ نے فرمایا: ''لازم ہوگئی۔'' پھر دوسرا جنازہ گزرا، اس کی برائی بیان کی گئی تو آپ نے پھر وہی فرمایا: ''واجب ہوگئی۔'' (کیا مطلب ہے؟) آپ نے فرمایا: ''جس کی تم نے اچھی تعریف کی تھی اس کے لیے جنت لازم ہوگئی اور جس کی برائی بیان کی اس کے لیے آگے واجب ہوئی۔ تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔''

(۱) ''تم نے اچھی تعریف کی۔'' تم سے مراد عام لوگ ہیں۔ جس شخص کو سب لوگ اچھا کہیں، وہ اچھا ہی ہوگا اور جس کو سب برا کہیں (موت کے بعد) وہ برا ہی ہوگا کیونکہ سب لوگ اسی کی تعریف کریں گے جو سب کے ساتھ اچھا رہا اور جس نے سب کو امن میں رکھا۔ جو شخص لوگوں کے حقوق میں کوتاہی نہیں رتا، وہ بالعموم اللہ تعالیٰ کے حقوق میں بھی کوتاہی نہیں کرے گا۔ اسی طرح برا کہنا ہے۔ لازمًا وہ لوگوں سے بدسولکی کرنے والا ہے ورنہ سب برا نہ کہتے۔ اور جو لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتا، وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا نہیں کرے گا۔ بعض اہل علم نے تم سے مراد صرف صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم یا متقی حضرات لیے ہیں کیونکہ وہ اسی کی تعریف کریں گے جو حقیقتًا نیک ہوگا، اور اسی کو برا کہیں گے جو حقیقتًا برا ہوگا مگر یہ تخصیص بلادلیل ہے، صحیح توجیہ اوپر بیان ہوچکی ہے۔ (۲) ''اللہ تعالیٰ کے گواہ'' جس طرح عدالت میں فیصلہ گواہوں کے مطابق ہوتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی لوگوں کی گواہی کے مطابق فیصلہ فرمائے گا۔ [إن خیرا فخیر و إن شرا فشر] کیونکہ انسان کے اخلاق کا علم معاملات سے ہوتا ہے۔ (۳) اس سے امت کی فضیلت بھی ظاہر ہوئی کہ یہ زمین پر اللہ کی گواہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت