فهرس الكتاب

الصفحة 4705 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

4705 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شَرِكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ، وَحَائِطٍ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، وَإِنْ بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ»

حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہر مشترک چیز میں حق شفعہ قرار دیا ہے بشرطیکہ وہ تقسیم نہ ہوئی ہو۔ گھر ہو یا کھیت ہو یا باغ۔ کسی ایک شریک کو اپنا حصہ بیچنے کی اجازت نہیں حتی کہ اپنے شریک کو مطلع کرے۔ چاہے وہ لے لے، چاہے نہ لے۔ لیکن اگر اسے اطلاع کیے بغیر بیچ ڈالا تو شریک اس کا زیادہ حق دار ہوگا۔''

تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: ۴۶۵۰ کے فوائد ومسائل۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت