فهرس الكتاب

الصفحة 4206 من 5761

کتاب: بیعت سے متعلق احکام و مسائل

4206 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ يَعْمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ وَالٍ إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا، فَمَنْ وُقِيَ شَرَّهَا فَقَدْ وُقِيَ، وَهُوَ مِنَ الَّتِي تَغْلِبُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''ہر حاکم کے مشیر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک مشیر وہ جو اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے اور دوسرا مشیر وہ جو اس کو خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ جو حاکم برے مشیروں سے بچ گیا، وہ حقیقتًا بچ گیا۔ اور اس کا شمار ان میں سے ہو گا جو اس پر غالب آئے رہے۔''

معلوم ہوا کہ امیر یا حاکم کی کامیابی اور ناکامی اس کے مشیروں پر موقوف ہے۔ اگر مشیر اچھے ہوں گے تو حاکم اچھا رہے گا۔ او اگر مشیر برے ہوں گے تو حاکم بھی برا ہو گا، خواہ بذات خود اچھا ہو۔ یہی مطلب ہے آخری جملے کا کہ حاکم پر جس قسم کی مشیروں کا غلبہ ہو، حاکم کو اسی قسم میں شمار کیا جائے گا۔ اس کی اپنی ذات کا لحاظ نہیں رکھا جائے گا۔ تجربہ بھی اس بات کا شاہد ہے کہ بعض برے حاکموں کو اچھے مشیروں کی وجہ سے نیک نامی حاصل ہو گئی، جیسے سلیمان بن عبدالملک کے ہاتھوں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی نامزدگی ایک اچھے مشیر کا کارنامہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت