1872 أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ يُعَزِّيهِ بِابْنٍ لَهُ هَلَكَ وَذَكَرَ فِي كِتَابِهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَى لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ إِذَا ذَهَبَ بِصَفِيِّهِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ وَقَالَ مَا أُمِرَ بِهِ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ
حضرت عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین کو ان کے ایک فوت ہونے والے بیٹے کی تعزیت کرتے ہوئے (خط) لکھا کہ میں نے اپنے والد محترم (حضرت شعیب) کو اپنے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی روایت سے یہ بیان فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے جگر گوشے کو اپنے پاس بلا لے، اور وہ اس پر صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے اس (مصیبت کےبدلے) ثواب طلب کرے اور وہی بات منہ سے نکالے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے تو اللہ تعالیٰ جنت سے کم کوئی بدلہ اس کے لیے پسند نہیں فرماتا۔''
ظاہر ہے اس سے گناہ معاف ہو جائیں گے کیونکہ جنت میں جانے سے پہلے گناہوں کی معافی ضروری ہے۔