فهرس الكتاب

الصفحة 393 من 5761

کتاب: حیض اور استحاضےسےمتعلق احکام و مسائل

393 أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ حُسَيْنٍ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فِي وَسَطِهَ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام کعب رضی اللہ عنہا کا جنازہ پڑھا جو کہ بچے کی پیدائش کے موقع پر فوت ہو گئی تھیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے دوران میں ان کے درمیان کھڑے ہوئے۔

(۱) باب کا مقصد یہ ہے کہ نفاس کی حالت میں اگرچہ عورت خود نماز نہیں پڑھ سکتی مگر وہ فوت ہو جائے تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ اس کا نفاس جنازے سے مانع نہیں، نیز وہ ظاہرًا پلید نہیں، لہٰذا نمازی کے آگے رکھنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ مومن کا جسم ظاہرًا پلید نہیں ہوتا، نہ جنابت سے، نہ حیض و نفاس سے اور نہ موت سے۔ نفاس سے جسم کی ناپاکی معنوی پلیدی ہے۔ (۲) عورت کے جنازے میں امام چارپائی کے وسط کے برابر کھڑا ہوگا جیسا کہ بعض روایات میں صراحت ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: ۱۳۳۲، و صحیح مسلم، الجنائز، حدیث: ۹۶۴) اس میں نفاس کا کوئی دخل نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت