فهرس الكتاب

الصفحة 5016 من 5761

کتاب: ایمان اور اس کے فرائض واحکام کا بیان

5016 أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

حضرت انس ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''تم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں ہوسکتا حتیٰ کہ میں اسے اس کی اولاد ،ماں باپ اور سب لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہوجاؤں ۔،

(1) امام نسائی ﷫ نے جو عنوان قائم کیا ہے اس کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ بڑھ کرمحبت کرنا آدمی کے کمال ایمان کی علامت اور دلیل ہے ۔

(2) ''زیادہ پیارا،،یہاں محبت سے عقلی محبت مراد ہے جس کا دوسرا نام اطاعت ہے ۔ویسے بھی محبت کا علم اطاعت کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ محبت تو مخفی چیز ہے جس کا جھوٹا دعوی ٰ بھی کیا جاسکتا ہے ۔محبت کی تصدیق اطاعت ہی سے ہوتی ہے۔ارشاد باری تعالی ہے ( قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي [آل عمران:،3 31) مطلب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور اپنی اولاد یا اپنی دلی خواہش کےمابین تصادم پیدا ہو تو بہر صورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ہی کو ترجیح دی جائے ۔فداہ ابی ونفسی وروحیﷺ)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت