429 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ فَقَالَ اغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَثْفِرِي ثُمَّ أَهِلِّي
محمد بن علی باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور ان سے حجۃ الوداع کے بارے میں پوچھا، انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہما نے محمد بن ابی بکر کو جنم دیا۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھجوایا کہ میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ''غسل کرکے لنگوٹ باندھ لو، پھر احرام باندھ لو۔''
(۱) نفاس والی عورت کا احرام کے موقع پر غسل صرف جسمانی صفائی یا احرام کی اہمیت کے لیے ہے، نہ کہ پاکیزگی کے لیے کیونکہ وہ غسل تو نفاس (خون) ختم ہونے کے بعد ہوگا۔ (۲) لنگوٹ باندھنا اس لیے ہے تاکہ خون کپڑوں اور جسم کو خراب نہ کرے۔ مزید دیکھیے، حدیث:۲۹۲ اور اس کے فوائدومسائل۔