فهرس الكتاب

الصفحة 3389 من 5761

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

3389 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ قَالَ وَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا قَالَ فَذَهَبَتْ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَتَقُولُ لَكَ إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ قَالَ ضَعْهُ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَادْعُ فُلَانًا وَفُلَانًا وَمَنْ لَقِيتَ وَسَمَّى رِجَالًا فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُهُ قُلْتُ لِأَنَسٍ عِدَّةُ كَمْ كَانُوا قَالَ يَعْنِي زُهَاءَ ثَلَاثَ مِائَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ فَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ قَالَ لِي يَا أَنَسُ ارْفَعْ فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ رَفَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ وَضَعْتُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے شادی کی اور اپنی زوجہ محترمہ کو گھر لائے تو میری والدہ ام سلیم نے ملیدہ بنایا۔ میں وہ لے کر رسول اللہﷺ کے پاس گیا اور کہا: میری والدہ آپ کو سلام کہتی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے معمولی سا تحفہ ہے۔ آپ نے فرمایا: 'رکھ دو۔'' پھر فرمایا: ''جاؤ فلاں فلاں کو بلا لاؤ بلکہ جسے بھی ملو (اسے بلالاؤ) ۔'' آپ نے کچھ لوگوں کے نام لیے۔ جن کے آپ نے نام لیے تھے' میں ان سب کو بلالایا اور جسے بھی ملا' اسے بھی بلالیا۔ (حضرت انس کے شاگرد نے کہا: ) میں نے حضرت انس سے پوچھا: وہ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: تقریبًا تین سو افراد تھے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''دس دس آدمی حلقہ بنالیں اور ہر شخص اپنے قریب اور سامنے سے کھائے۔'' سب لوگوں نے کھانا کھایا حتیٰ کہ وہ سیر ہوگئے۔ ایک گروہ جاتا رہا' دوسرا آتا رہا۔ (جب سب فارغ ہوگئے تو) آپ نے فرمایا: ''انس! اٹھاؤ۔'' میں نے برتن اٹھایا۔ میں نہیں جانتا کہ جب میں نے رکھا تھا تو اس وقت زیادہ تھا یا جب اٹھایا'اس وقت زیادہ تھا۔

شادی بیاہ کے موقع پر دلھن دلھن کو تحفئہ ہدیہ دینا نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے' جیسا کہ مذکورہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ اس حدیث میں جس زوجئہ مترمہ کا ذکر ہے وہ حضرت زینبؓ ہیں۔ حضرت ام سلیمؓ نے ملیدہ کا ہدیہ رسول اللہﷺ کو بھیجا تھا۔ رسول اللہﷺ نے وہ ہدیہ قبول فرمایا اور کم وبیش تین سو کے قریب صحابئہ کرام کو بھی اس ہدیے میں شریک فرمایا۔ حدیث شریف سے مطلقًا ہدیہ دینے کا بھی استحباب ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس طرح ایک دوسرے سے محبت والفت پیدا ہوتی ہے' دوریاں کم ہوتی اور قربتیں بڑھتی ہیں۔ اس ذریعے سے اجتماعیت کو فروغ ملتا ہے جو کہ مطلوب اور محبوب عمل ہے۔ ارشاد گرامی ہے: ]تَھَادَوْا تَجَابُّو[ (صحیح الجامع الصغیر' حدیث: ۳۰۰۴) یعنی ایک دوسرے کو تحفے ہدیے دیا کرو' اس سے آپس کی محبتیں پروان چڑھتیں ہیں۔ چنانچہ بالخصوص اہل علم اور بالعموم عوام الناس کو اس سنت پر ا ہتمام سے عمل کرنا چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت