کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟
221 أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرٍ أَنَّ أَبَا السَّائِبِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم میں سے جب کوئی شخص جنبی ہو تو ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے۔''
(۱) ٹھہرے پانی میں داخل ہو کر جنبی کا نہانا پانی کو ناقابل استعمال بنا سکتا ہے۔ اگرچہ ایک آدمی کے نہانے سے رنگ، بو اور ذائقے میں تبدیلی نہیں ہوگی مگر اجازت کی صورت میں تو جتنے آدمی بھی چاہیں، نہا سکتے ہیں۔ اس طرح رنگ، بو اور ذائقہ بدلنے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ (۲) نجاست سے قطع نظر پینے والوں کے لیے اس پانی کا استعمال طبعًا گوارانہ ہوگا جس میں جنبی لوگ نجاست سمیت نہاتے ہوں۔