فهرس الكتاب
3438 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ تَحْتَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ جِلْبَابِهَا وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ بِالْبَابِ فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَسْمَعُ هَذِهِ تَجْهَرُ بِمَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ
حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ حضرت رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی جب کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پاس موجود تھے۔ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں (پہلے) رفاعہ قرظی کے نکاح میں تھی۔ لیکن انہوں نے مجھے بتہ طلاق دے دی۔ میں نے (عدت گزارنے کے بعد) حضرت عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے شادی کرلی۔ اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! ان کا عضو تو کپڑے کے اس ان بنے کنارے کی طرح ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی چادر کا ایک کنارہ پکڑ کر دکھادیا۔ حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ باہر دروازے پر تھے۔ آپ نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ وہ کہنے لگے: اے ابوبکر! آپ اس عورت کی بات نہیں سن رہے؟ یہ رسول اللہﷺ کے پاس بھی وہی کچھ کہہ رہی ہے جو کچھ (باہر) کہتی پھرتی ہے۔ آپ نے فرمایا: ''تو رفاعہ کے نکاح میں جانا چاہتی ہے؟ تو نہیں جاسکتی حتیٰ کہ تو عبدالرحمن بن زبیر سے اور وہ تجھ سے لذت جماع حاصل کرے۔''
بتہ طلاق کی تفصیل کے لیے دیکھیے' حدیث:۳۲۸۵۔