فهرس الكتاب

الصفحة 70 من 5761

کتاب: امور فطرت کا بیان

70 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ فَيَضَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُ وَأَنَا حَائِضٌ وَكُنْتُ أَشْرَبُ مِنْ الْإِنَاءِ فَيَضَعُ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُ وَأَنَا حَائِضٌ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں کسی ہڈی سے گوشت نوچتی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ اپنا منہ مبارک رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ اور میں برتن سے پانی پیتی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ اپنا منہ رکھتے تھے جہاں میں نے لگایا تھا، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔

(۱) حیض اور جنابت کی حالت ظاہری پلیدی نہیں، لہٰذا حائضہ اور جنبی کا جوٹھا پاک ہے۔ (۲) اس حدیث سے نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال حسن معاشرت کا درس ملتا ہے۔ (۳) آدمی اپنی بیوی سے جماع کے علاوہ ہر وہ معاملہ کرسکتا ہے جس سے دونوں کو سرور حاصل ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت