فهرس الكتاب

الصفحة 1665 من 5761

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل

1665 أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ فَمَضَى فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَتَيْنِ فَمَضَى فَقُلْتُ يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ فَمَضَى فَافْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ ثُمَّ رَكَعَ فَقَالَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَكَانَ قِيَامُهُ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ يَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (رات کی نفل) نماز پڑھی۔ آپ نے سورۂ بقرہ شروع کی۔ میں نے سوچا کہ آپ سو آیتیں پڑھ کر رکوع فرمائیں گے لیکن آپ آگے بڑھ گئے۔ میں نے سوچا کہ آپ دو سوآیتیں پڑھ کر رکوع فرمائیں گے لیکن آپ آگے گزر گئے۔ میں نے سوچا، پوری سورت ایک رکعت میں پڑھیں گے لیکن آپ پڑھتے گئے اور سورۂ نساء شروع کردی اور پوری پڑھ ڈالی، پھر آل عمران شروع کردی اور ختم کرڈالی۔ پڑھتے بھی ٹھہرٹھہر کر تھے۔ جب کسی ایسی آیت پر آتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو تسبیح پڑھتے اور جب کوئی سوال والی آیت پڑھتے تو رک کر اللہ تعالیٰ سے وہ چیز مانگتے اور جب کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں پناہ والی چیز کا ذکر ہوتا ہے تو اس چیز سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے، پھر رکوع فرمایا اور [سبحان اللہ لمن حمدہ] آپ کا یہ قومہ بھی تقریبًا رکوع کے برابر تھا، پھر سجدہ فرمایا اور [سبحان ربی الاعلی] پڑھتے رہے تو آپ کا سجدہ آپ کے رکوع کے قریب تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت