فهرس الكتاب

الصفحة 1296 من 5761

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

1296 أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبِشْرُ يُرَى فِي وَجْهِهِ فَقَالَ إِنَّهُ جَاءَنِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَا يُرْضِيكَ يَا مُحَمَّدُ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن آئے تو آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار نظر آ رہے تھے۔ (ہمارے استفسار پر) آپ نے فرمایا: ''جبریل میرے پاس آئے اور کہنے لگے: اے محمد! کیا آپ کے لیے یہ بات خوش کن نہیں ہے کہ آپ کی امت میں سے جو شخص بھی آپ پر درود پڑھے گا، میں اس پر دس بار رحمت اتاروں گا اور آپ کی امت میں سے جو شخص بھی آپ پر سلام پھڑے گا، میں اس پر دس دفعہ سلام نازل کروں گا۔''

دیکھیے، حدیث: ۱۲۸۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت