فهرس الكتاب

الصفحة 4377 من 5761

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل

4377 أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا بَتْرَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (قربانی والے جانور کے) آنکھ اور کان کو غور سے دیکھیں اور ہم کوئی ایسا جانور ذبح نہ کریں جس کا کان آگے سے کٹا ہو یا پیچھے سے کٹا ہوا ہو یا دم کٹی ہوئی ہو یا کان میں سوراخ ہو۔

جانور کی خوبصورتی اس کے کان آنکھ ہی سے ہوتی ہے، اس لیے آپ نے ان میں ہلکا سا عیب بھی قبول نہیں فرمایا، خصوصًا اس لیے بھی کہ مشرکین بتوں کے نام پر جانوروں کے کان کچھ حد تک کاٹ دیتے تھے۔ چونکہ کن کٹنے جانور کے بارے میں یہ شبہ قائم ہے کہ شاید وہ کسی بت کے لیے نامزد ہو، لہٰذا اس قسم کے ہر جانور کو قربانی میں ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ دم بھی جانور کی خوبصورت میں اصل ہے، لہٰذا دم کٹا جانور بھی ممنوع ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت