767 أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ كَانَ رِجَالٌ يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاقِدِينَ أُزْرَهُمْ كَهَيْئَةِ الصِّبْيَانِ فَقِيلَ لِلنِّسَاءِ لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور انھوں نے اپنے ازار (چھوٹے ہونے کی وجہ سے) بچوں کی طرح گردن پر باندھے ہوتے تھے تو (احتیاطًا) عورتوں سے کہا گیا کہ تم سجدے سے سر نہ اٹھایا کرو حتیکہ مرد سیدھے بیٹھ جایا کریں۔
ازار چھوٹے ہوتے تھے، اس لیے گرہ دینا پڑتی تھی جیسے کہ حدیث نمبر ۷۶۵ میں بیان ہوا۔ عورتوں کو کہنا صرف احتیاطًا تھا کہ چھوٹے ہونے کی وجہ سے کہیں کپڑا ادھر ادھر نہ ہو جائے ورنہ یہ نہیں کہ وہ سجدے میں پیچھے سے ننگے ہوتے تھے کیونکہ اس طرح تو نماز ہی نہ ہوگی۔ اگر کپڑا اتنا چھوٹا ہو تو اسے گردن کی بجائے ازاار کی طرح کمر پر باندھنا چاہیے کیونکہ شرم گاہ ڈھانپنا فرض ہے۔ یاد رہے! آپ کے دور مبارک میں عورتیں مردوں کے پیچھے باجماعت مسجد میں نماز پڑھتی تھیں۔