3580 أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ طُلِّقَتْ خَالَتُهُ فَأَرَادَتْ أَنْ تَخْرُجَ إِلَى نَخْلٍ لَهَا فَلَقِيَتْ رَجُلًا فَنَهَاهَا فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اخْرُجِي فَجُدِّي نَخْلَكِ لَعَلَّكِ أَنْ تَصَدَّقِي وَتَفْعَلِي مَعْرُوفًا
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ کو میری طلاق ہوگئی۔ انہوں نے اپنے نخلستان میں جانا چاہا۔ ایک آدمی انہیں ملا تو اس نے انہیں روک دیا۔ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ نے فرمایا: ''تو جا کر اپنی کھجوروں کا پھل توڑ سکتی ہے؟ ہوسکتا ہے تو اس سے صدقہ کرے یا کوئی اور نیک کام کرے۔''
ضرورت ہو تو سوگ والی عورت گھر اور کھیت میں کام کرسکتی ہے۔ ممکن ہے کوئی اور کام کرنے والا نہ ہو۔ شریعت لوگوں کی ضروریات اور مجبوریوں کا بہت لحاظ رکھتی ہے