فهرس الكتاب

الصفحة 2097 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

2097 أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور آپ رمضان المبارک میں زیادہ سخاوت کرتے تھے جب جبریلg آپ سے ملتے تھے۔ اور رمضان المبارک کے مہینے میں جبریلg ہر رات آپ سے ملتے اور آپ سے قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے۔ جب رسول اللہﷺ سے جبریلg ملتے تو آپ چھوڑی ہوئی (تیز) ہوا سے بھی بڑھ کر سخاوت فرماتے تھے۔

(۱) ''زیادہ سخاوت'' رمضان المبارک میں ہر کام کا ثواب بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے آپ اس مہینے میں زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔ حضرت جبریلg کی ملاقات کے وقت اس میں اور اضافہ ہوتا تھا کیونکہ ان کے ساتھ نازل شدہ قرآن کا دور ہوتا تھا۔ قرآن کا نزول اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان تھا، پھر دور کے ذریعے سے اس کی حفاظت اس سے بھی بڑھ کر احسان ہے، لہٰذا شکرانے کے طور پر آپ سخاوت فرماتے تھے، نیز یہ بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کی ایک صورت ہے۔ (۲) ''چھوڑی ہوئی (تیز) ہوا'' یعنی خیر و برکت اور بارش والی ہوا سے بھی زیادہ صاحب خیر وسخاوت ہوتے تھے۔ ظاہر ہے مذکورہ ہوا قریب وبعید کے تمام کے لیے بہت مفید ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت