فهرس الكتاب

الصفحة 5346 من 5761

کتاب: زینت سے متعلق احکام و مسائل

5346 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ

حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ فتح مکہ کے دن احرام کے بغیر (مکہ مکرمہ میں) داخل ہوئے جبکہ آپ (کے سرمبارک) پر سیاہ پگڑی تھی۔

''احرام کے بغیر'' کیونکہ احرام میں سر ڈھانپنا منع ہے۔ معلوم ہوا اگر کوئی شخص حج یا عمرے کا ارادہ رکھتا ہو، کسی اور کام سے مکہ مکرمہ جانا چاہتا ہو اور وہ میقات سے باہر رہتا ہو تو اسے میقات سے گزرتے وقت احرام باندھنا ضروری نہیں۔ احناف نے یہاں سختی برتی ہے کہ جو بھی شخص مکہ مکرمہ جانا چاہتا ہو اور وہ میقات سے باہر رہتا ہو تو میقات سے گزرتے وقت اس کے لیے احرام باندھنا ضروری ہے۔ حج یا عمرے کا ارادہ ہو یا نہ۔ اس حدیث کو وہ آپ کا خاصہ بناتے ہیں مگر یہ بات کمزور ہے۔ اور صریح احادیث کے خلاف ہے کیونکہ صحیح احادیث میں یہ صراحت ہے کہ میقات اس شخص کے لیے ہیں جو حج یا عمرے کا ارادہ رکھتا ہو۔ رسول اللہﷺ نے حج و عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مختلف اطراف سے مکہ معظمہ آنے والے مختلف لوگوں کے لیے میقات (احرام باندھنے کی جگہیں) مقرر فرمائیں تو ارشاد فرمایا: [فهن لهن ولمن أتيٰ عليهن من غير أھلين لمن ك ان يريد الحج ولاعمرة] ''يه میقات ان علاقوں کے باسیوں کے لیےہیں، نیز ان لوگوں کے لیے بھی جو کسی دوسری جگہ سے آتے ہیں، ان علاقوں کے باسی نہیں۔ (یہ میقات) ہر اس شخص کے لیے جو حج و عمرےکا ارادہ کرتا ہے۔'' (صحيحالبخاري، الحج، باب مهل أهل الشام، حديث:1526، وصحيح مسلم، الحج، باب مواقيت الحج، حديث: 1181) معلوم ہوا اگر کوئی شخص حج و عمرہ نہ کرنا چاہے تو اس کے لیے یہ میقات بھی نہیں اور نہ اس کے لیے یہاں گزرتے ہوئے احرام باندھنا ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت