فهرس الكتاب
1180 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ وَإِذَا قَامَ مِنْ الرَّكْعَتَيْنِ فَقَالَ حُطَيْمٌ عَمَّنْ تَحْفَظُ هَذَا فَقَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثُمَّ سَكَتَ فَقَالَ لَهُ حُطَيْمٌ وَعُثْمَانُ قَالَ وَعُثْمَانُ
حضرت عبدالرحمن بن اصم سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں تکبیروں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: تکبیر (اللہ اکبر) کہے جب رکوع کرے، جب سجدہ کرے، جب سجدے سے سر اٹھائے اور جب دو رکعتوں سے کھڑا ہو۔ حطیم نے ان سے پوچھا کہ یہ بات آپ نے کس سے یاد رکھی ہے؟ انھوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے، پھر خاموش ہوگئے۔ حطیم نے کہا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی؟ فرمایا: ''ہاں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی۔
تکبیر تحریمہ تو متفق علیہ ہے، نیز اس میں کوئی سستی نہیں کرتا تھا، اس لیے اس کا ذکر نہیں کیا۔ باقی تکبیرات میں بعض ائمہ سستی کر جاتے تھے، اس لیے ان کا ذکر فرما دیا۔