فهرس الكتاب

الصفحة 2075 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

2075 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مومن کی روح (وفات کے بعد) جنت کے درختوں میں اڑتی رہتی ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اس کے جسم میں داخل کرے گا۔''

مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ سنن ابن ماجہ کی تحقیق میں بعینہٖ اسی روایت پر سندًا ضعف کا حکم لگانے کے بعد لکھتے ہیں کہ اس سے سنن ابن مجہ ہی کی روایت نمبر: ۴۲۷۱، کفایت کرتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت محقق کتاب کے نزدیک بھی قابل حجت ہے۔ علاوہ ازیں دیگر محققین نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ بنابریں مذکورہ روایت سندًا ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل حجت ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام احمد: ۵۹-۵۵/۲۵، والصحیحہ للألبانی، رقم: ۹۹۵، و ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائي: ۱۴۳-۱۲۳/۲۰) ''جسم'' سے مراد برزخی جسم ہے جس پر برزخی زندگی کی کیفیتا گزریں گی جس کی اصل حقیقت اللہ ہی جانتا ہے، تاہم وہاں اسے جنت اور جہنم کی نعمتوں اور تکلیفوں کا احساس ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت