فهرس الكتاب

الصفحة 673 من 5761

کتاب: اذان سے متعلق احکام و مسائل

673 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي فَقَالَ أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا

حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ آپ مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیں۔ آپ نے فرمایا: ''تم ان کے امام ہو۔ نماز پڑھاتے وقت ان میں سے کمزور ترین آدمی کا لحاظ رکھنا اور ایسا مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر تنخواہ نہ لیتا ہو۔''

اذان، نماز یا تعلیم کی اجرت لینا جمہور اہل علمکے نزدیک جائز ہے۔ ہاں، نہ لے تو اولیٰ ہے۔ یاد رہے کہ اذان وغیرہ دینا اجرت کے ساتھ اس طرح مشروط نہ ہو کہ اگر اس کی اجرت اور تنخواہ نہ ملے تو اذان بھی نہ دے، یہ چیز صراحتًا دینی روح اور اخلاص کے منافی ہے۔ غالبًا حدیث میں اسی قسم کی شرط کے پیش نظر ایسے مؤذن کو نہرکھنے کی ترغیب ہے نہ کہ سرے سے اس کا تعاون ہی نہیں ہوسکتا، ایسا قطعًا نہیں۔ اگر کوئی برسرروز گار نہ ہو، صرف اسی قسم کی خدمت کے لیے وقف ہو تو اس کی روز مرہ ضروریات کا بندوبست اچھا ہونا چاہیے، وگرنہ وہ دلجمعی سے اپنی ذمہ داری نہیں نبھا سکے گا اور بالآخر چھوڑنے پر مجبور ہوگا تو اس قسم کی دینی ذمہ داریاں پھر کون نبھائے گا؟ واللہ أعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت