فهرس الكتاب

الصفحة 4272 من 5761

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل

4272 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ أَبُو صَالِحٍ الْمَكِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُرْسِلُ كِلَابِي الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ فَآكُلُ؟ قَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ، فَأَمْسَكْنَ عَلَيْكَ فَكُلْ» قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَتَلْنَ» . قَالَ: «مَا لَمْ يَشْرَكْهُنَّ كَلْبٌ مِنْ سِوَاهُنَّ» ، قُلْتُ: أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَيَخْزِقُ؟ قَالَ: «إِنْ خَزَقَ فَكُلْ، وَإِنْ أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ»

حضرت عدی بن حاتم (طائی) رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کی رسول! میں اپنے سدھائے ہوئے کتے شکار پر چھوڑتا ہوں۔ وہ شکار کو میرے لیے پکڑ کر رکھتے ہیں تو کیا میں کھا سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ''جب تو سدھائے ہوئے کتے چھوڑے اور وہ تیرے لیے شکار پکڑے رکھیں (خود نہ کھائیں) تو کھا لے۔'' میں نے کہا: اگر وہ قتل کر دیں تو؟ آپ نے فرمایا: ''خواہ قتل کر دیں، البتہ ان کے ساتھ کوئی اور کتا شریک نہ ہو۔'' میں نے کہا کہ میں معراض تیر پھینکتا ہوں جو شکار کو پھاڑ دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ''اگر تو تیر پھاڑ دے تو کھا لے لیکن اگر وہ جانور کو نوک کی بجائے کسی اور جگہ سے لگے تو نہ کھا۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت