2177 أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ
ابو سلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ام سلمہؓ نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو پے در پے دو ماہ کے روزے رکھتے نہیں دیکھا، البتہ آپ شعبان (کے روزوں) کو رمضان المبارک (کے روزوں) سے ملا لیتے تھے۔
ظاہرًا اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ مکمل شعبان کے روزے رکھتے تھے مگر یہ درست نہیں بلکہ آپ آخر سے چند دن ناغہ فرما لیتے تھے۔ اس بات کی صراحت آگے حدیث نمبر ۲۱۷۹ اور ۲۱۸۰ میں آرہی ہے۔ چونکہ اکثر دنوں کے روزے رکھتے تھے، لہٰذا کہہ دیا گیا کہ سارا مہینہ روزے رکھتے تھے۔ لِلْأَکْثرِ حُکْمُ الْکُلِّ عرفًا کلام میں ایسے عام ہو جاتا ہے۔