فهرس الكتاب

الصفحة 3450 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

3450 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا فَتَوَاصَيْتُ وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَيْهِمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ وَقَالَ لَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا لِقَوْلِهِ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا كُلُّهُ فِي حَدِيثِ عَطَاءٍ

نبیﷺ کی زوجئہ محترمہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ اپنی زوجئہ محترمہ حضرت زینبؓ کے پاس (زیادہ دیر) ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے۔ میں نے اور حفصہ نے آپس میں منصوبہ بنایا کہ نبیﷺ ہم میں سے جس کے ہاں بھی تشریف لائیں وہ آپ سے کے کہ میں آپ سے مغافیر کی بوپاتی ہوں۔ آپ ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ سے وہی بات کہہ دی۔ آپ نے فرمایا: ''میں نے تو زینب کے ہاں سے شہد پیا ہے' دوبارہ نہیں پیوں گا۔'' پھر یہ آیت اتری: {یٰآَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ} میں بات سے مرادآپ کا یہ فرمان ہے' میں نے شہد پیا ہے (دوبارہ نہیں پیوں گا) ۔ یہ ساری تفصیل عطاء کی حدیث میں ہے۔

تفصیلات کے لیے دیکھیے' حدیث:۳۴۱۰

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت