فهرس الكتاب

الصفحة 5488 من 5761

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان

5488 أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ نبئ اکرمﷺ جب گھر سے باہر نکلتے تو یوں دعا فرماتے:''اللہ تعالیٰ کے نام کی برکت سے۔اے میرے رب!میں اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں لغزش کر جاؤں یا گمراہ ہو جاؤں یا کسی پر ظلم کروں یا مظلوم بن جاؤں یا کسی سے نا مناسب سلوک کروں یا مجھ سے نا مناسب سلوک کیا جاۓ۔''

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ نبئ اکرمﷺ جب گھر سے باہر نکلتے تو یوں دعا فرماتے:''اللہ تعالیٰ کے نام کی برکت سے۔اے میرے رب!میں اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں لغزش کر جاؤں یا گمراہ ہو جاؤں یا کسی پر ظلم کروں یا مظلوم بن جاؤں یا کسی سے نا مناسب سلوک کروں یا مجھ سے نا مناسب سلوک کیا جاۓ۔''

''نامناسب سلوک ''یہ ترجمہ ہے جہالت کا۔ جہالت علم کے مقابل ہے۔جہالت سے جومفاسد پیدا ہو سکتے ہیں'ان سب کو جہالت ہی کہا جائے گا۔حقوق العباد میں جہالت نا مناسب سلوک کا سبب بنتی ہے کیونکہ جب کسی کے حق کا علم نہ ہو گا تو اس کے ساتھ مناسب سلوک کیسے ہو گا؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت