فهرس الكتاب

الصفحة 2639 من 5761

کتاب: حج سے متعلق احکام و مسائل

2639 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الرُّكُوبَ وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ فَهَلْ يُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ آنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَحُجَّ عَنْهُ

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خثعم قبیلے کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا: میرے والد انتہائی بوڑھے ہیں۔ وہ سوار نہیں ہو سکتے۔ اور اللہ کے فریضہ حج نے انھیں آ لیا ہے۔ کیا ان کی طرف سے حج کرنا ان کو کفایت کر جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ''کیا تو اس کا سب سے بڑا بیٹا ہے؟'' اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ''تو بتا اگر تیرے والد کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتا؟'' اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ''پھر تو اس کی طرف سے حج بھی کر۔''

(۱) محقق کتاب نے مذکورہ روایت کو سندًا ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس کی اصل صحیح ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی روایت معنًا صحیح ہے، تاہم راجح اور درست بات یہ ہے کہ [اَنْتَ اَکْبَرُ وَلَدِہِ] کے علاوہ باقی روایت شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام احمد: ۲۶/ ۴۷،۴۸) (۲) حج بدل کے لیے یہ ضروری نہیں کہ بڑا بیٹا ہی کرے بلکہ کوئی بیٹا بھی بلکہ بھائی حتیٰ کہ عام قرابت دار بھی حج بدل کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اس بارے میں آنے والی دیگر روایات سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ (دیگر مباحث کے لیے دیکھیے، روایات: ۲۶۳۳، ۲۲۳۶

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت