فهرس الكتاب

الصفحة 3809 من 5761

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل

3809 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ أَمَرَنَا بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ وَرَدِّ السَّلَامِ

حضرت براء بن غازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے' انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا: جنازوں کے ساتھ جانا' مریض کی بیمار پرسی کرنا' چھینکنے والے کو دعا دینا' دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنا' مظلوموں کی مدد کرنا' قسم کھانے والے کی قسم کو پورا کرنا اور سلام کا جواب دینا۔

''قسم پوری کرنا۔'' یعنی اگر کسی بھائی نے تیرے بارے میں کوئی قسم کھالی ہے' مثلًا: اللہ کی قسم! تو میرے ساتھ چلے گا۔'' تو تجھے چاہیے کہ اس کے ساتھ چلے تاکہ اس کی قسم کو گزند نہ پہنچے بشرطیکہ اس کام میں گناہ یا ظلم نہ ہو۔ اگر گناہ ہے اور خوف وضرور کااندیشہ ہے یا کسی پر ظلم ہوتا ہے تو پھر وہ کام نہیں کرنا چاہیے۔ وہ خود ہی کفارہ دے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت