فهرس الكتاب

الصفحة 2613 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

2613 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَرَادَ أَبُو رَافِعٍ أَنْ يَتْبَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے بنو مخزوم کے ایک شخص کو صدقات جمع کرنے پر مقرر فرمایا۔ ابو رافع (یعنی میں) نے بھی اس کے ساتھ جانے کی خواہش کی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''صدقات ہمارے لیے حلال نہیں اور کسی خاندان کا آزاد کردہ غلام بھی ان میں شامل ہے۔''

یہ ابو رافع رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے، بلکہ انھیں اس نسبت سے ہاشمی بھی کہہ دیا جاتا تھا۔ مذکورہ حدیث سے بھی تائید ہوتی ہے کہ کسی قوم کے آزاد کردہ غلام یا بھانجے کو ان کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے، اگرچہ وہ نسبًا ان سے نہیں کیونکہ محض نسبت کے لیے اتنا تعلق بھی کافی ہے۔ ابو رافع کا زکاۃ کا اہل قرار نہ دینے سے بھانجے کے بارے میں امام نسائی رحمہ اللہ کے استنباط کو قوت پہنچتی ہے کیونکہ جب آزاد کردہ غلام بنو ہاشم کا حکم رکھتا ہے تو بھانجا کیوں نہ رکھے گا؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت