فهرس الكتاب
1096 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَصُرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَبِينِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صُبْحِ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مُخْتَصَرٌ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، فرمایا: (رمضان المبارک کی) اکیسویں رات کی صبح کو میری آنکھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتھے اور ناک پر پانی اور مٹی، یعنی کیچڑ کے نشانات دیکھے۔ یہ روایت مختصر ہے۔
سجدے میں ماتھے کا زمین پر لگنا ضروری ہے کیونکہ سجدے کے معنی ہی ماتھا زمین پر رکھنا ہیں، الا یہ کہ کوئی عذر ہو، مثلًا: پھوڑا پھنسی ہو یا کمر یا سر میں تکلیف ہو یا آنکھ کا آپریشن کرایا ہو یا اس کے علاوہ جو چیزی بھی ماتھا زمین پر رکھنے سے مانع ہو۔