فهرس الكتاب

الصفحة 1721 من 5761

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل

1721 أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ عَبْدَةَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنَّا نُعِدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنْ اللَّيْلِ فَيَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدْعُو بَيْنَهُنَّ وَلَا يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ وَيَقْعُدُ وَذَكَرَ كَلِمَةً نَحْوَهَا وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کی مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ پسند فرماتا، رات میں آپ کو اٹھا دیتا۔ آپ (اٹھ کر) مسواک اور وضو فرماتے اور نو رکعات اس طرح پڑھتے کہ ان میں سے کسی کے آخر میں نہ بیٹھتے مگر آٹھویں رکعت پر بیٹھتے۔ اللہ کی حمد کرتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے اور دعائیں رکتے مگر سلام نہ پھیرتے، پھر نویں (رکعت) پڑھ کر بیٹھتے اور اللہ کی حمدوثنا فرماتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے اور دعائیں کرتے پھر اتنی آواز سے سلام کہتے کہ ہمیں سنائی دیتا، پھر بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے۔

اس میں پہلے تشہد میں بھی درودشریف پڑھنے کا ذکر ہے، یہ اگرچہ نفلی نماز کا واقعہ ہے لیکن اسے فرضوں میں بھی پڑھا جاسکتا ہے بلکہ مستحب ہے جیسا کہ پہلے بھی اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت