فهرس الكتاب

الصفحة 4963 من 5761

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان

4963 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَوْصِيَّ عَنْ الْحَسَنِ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ

حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: '' پھل اور گری ( کھجور کے مغز) میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔''

1۔ پھل سے مراد وہ پھل ہے جو درخت پر لگا ہو جیسا کہ پہلے وضاحت گزر چکی ہے ۔

2۔ اس قسم کے پھل میں ہاتھ نہ کٹنے کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کوئی اور سزا بھی نہیں دی جائے گی ، بلکہ دگنی قیمت اور جسمانی سزا عائد کی جائے گی ۔

3۔ '' کثر'' سے مراد کھجور کی وہ نرم گری اور مغز ہے جو اس کے تنے کے اوپر کنارے میں ہوتا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت