فهرس الكتاب

الصفحة 3240 من 5761

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

3240 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے۔''

(1) کسی کے پیغام پر پیغام بھیجنا اخلاق کے منافی ہے بلکہ حسد اور خود غرضی کا آئینہ دار ہ' اس لیے اسلام نے ا س سے منع فرمایا ہے۔ شریعت اسلامی کا یہ طرئہ امتیاز ہے کہ یہ فرد اور معاشرے کی اصلاح کرتی ہے' باہمی الفت اور مودت کی ترغیب اور اختلاف' دشمنی اور نفرت کا سبب بننے والی ہر چیز سے روکتی ہے۔ (2) ہاں اگر پیغام رد ہوجائے یا عورت اور اس کے ولی مزید پیغامات کے خواہش مند ہوں یا پہلے پیغام بھیجنے والا اجازت دے دے یا ایک ہی وقت میں دو تین پیغام آجائیں تو کوئی حرج نہیں' پیغام بھیجا جاسکتا ہے۔ منع تب ہے جب بات چیت چل رہی ہو اور رجحان ہوچکا ہو' پیغام قبول ہوچکا ہو یا قبولیت کے قریب ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت