1136 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَحَزَرْنَا فِي رُكُوعِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ وَفِي سُجُودِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو اس جوان، یعنی حضرت عمر بن عبدالعزیز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ ہم نے رکوع اور سجدے میں ان کی تسبیحات کا اندازہ دس تسبیحات کا لگایا۔
اس اندازے میں چھوٹی تسبیحات، یعنی [سبحان ربی الاعلی] مراد ہیں۔ تین اور دس کے درمیان تسبیحات ایک درمیانے درجے کا رکوع اور سجدہ ہے۔ اسی پر عمل کرنے سے آدمی افراط و تفریط سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ بعض روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل تین تسبیحات کا ہے۔ جس سے استدلال کرتے ہوئے علمائے کرام کہتے ہیں کہ یہ تعداد کم از کم ہے۔ زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ واللہ أعلم۔