فهرس الكتاب

الصفحة 117 من 5761

کتاب: وضو کا طریقہ

117 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَمَالِكٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَتَتَوَضَّأُ فِيهَا قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا

حضرت عبید بن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ آپ صاف چمڑے کے جوتے پہنتے ہیں اور ان میں وضو کرتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پہنتے اور ان میں وضو کرتے دیکھا ہے۔

(۱) ''جوتوں میں وضو'' کا مطلب یہ ہے کہ اگر جوتے پہنے ہوئے ہوں اور وہ بند نہ ہوں بلکہ چپل نما ہوں جن میں وضو کیا جا سکتا ہو تو پاؤں کو دھونا ضروری ہے۔ (۲) [النعال السبتیۃ] سے مراد صاف چمڑے کے جوتے ہیں۔ چمڑے کو دبغت دے کر (رنگ کر) بالوں سے مکمل صاف کر لیا جاتا ہے، اس طرح چمڑا صاف ہونے کے ساتھ ساتھ نرم بھی ہو جاتا ہے۔ یہ جوتے خوب صورت اور آرام دہ ہوتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت