فهرس الكتاب

الصفحة 4582 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

باب: چاندی کی سونے کے عوض اور سونے کی چاندی کے ساتھ بیع کرنا

4582 وَفِيمَا قُرِئَ عَلَيْنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی چاندی کے بدلے اور سونا سونے کے بدلے لینے سے منع کیا ہے الا یہ کہ وہ (باہم) برابر ہوں، البتہ ہمیں اجازت دی کہ ہم چاندی کے بدلے سونا یا سونے کے بدلے چاندی جس طرح چاہیں، کم و بیش لے سکتے ہیں۔

ایسی بیع جس میں سونا چاندی کے بدلے یا سونا سونے کے بدلے خریدا بیچا جائے یا اس کے برعکس، یعنی چاندی سونے کے بدلے یا چاندی کے بدلے خریدی بیچی جائے، بیع الصرف کہلاتی ہے۔ اس میں نقد ادائیگی اور برابری ضروری ہے جبکہ مختلف اشیاء کے باہمی تبادلے میں برابری کی شرط نہیں، البتہ نقد ادائیگی، اس میں بھی ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت