فهرس الكتاب

الصفحة 1982 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

1982 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ، وَخَرَجَ بِهِمْ فَصَفَّ بِهِمْ، وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حضرت نجاشی رحمہ اللہ کی وفات کی اطلاع دی۔ انھیں لے کر (باہر) نکلے۔ ان کی صف بندی کی اور جنازے میں چار تکبیریں کہیں۔

بعض روایات میں جنازے کی تکبیرات چار سے زائد، یعنی نو تک بھی منقول ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی بعض صحابہ سے چار سے زائد تکبیریں کہنا ثابت ہے، لہٰذا عمل میں تنوع بہتر ہے، لیکن اگر مذکورہ طریقوں میں سے کسی ایک پر التزام کرنا ہے تو چار پر عمل بہتر اور افضل ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول یہی تھا۔ تفصیل و تحقیق کے لیے شیخ البانی رحمہ اللہ کی احکام الجنائز، ص: ۱۴۶-۱۴۱ ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت