فهرس الكتاب

الصفحة 4701 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

4701 أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ، وَسَعْدٌ يَوْمَ بَدْرٍ، فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ، وَلَمْ أَجِئْ أَنَا وَعَمَّارٌ بِشَيْءٍ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں عمار اور سعد بدر کے دن شریک بنے۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ دو قیدی لائے۔ میں اور عمار کچھ نہ لائے۔

''شریک بنے'' اس شراکت کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں جو کچھ ملے گا، وہ برابر تقسیم کر لیں گے۔ اس شراکت میں کوئی حرج نہیں کہ دو تین آدمی مل کر کام کریں اور پھر حاصل ہونے والی آمدنی میں برابر کے شریک بن جائیں۔ اگرچہ سب لوگ ایک جیسا کام نہیں کرتے مگر شراکت میں مسامحت ہوتی ہے۔ فقہاء کی اصطلاح میں ایسی شراکت کو شرکۃ الابدان کہتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت