فهرس الكتاب

الصفحة 1961 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

1961 أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ مَاتَ رَجُلٌ بِخَيْبَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ إِنَّهُ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک آدمی غزوۂ خیبر میں فوت ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھوں گا) کیونکہ اس نے جہاد کے دوران میں خیانت کی ہے۔'' ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو اس میں یہودیوں کے مونگوں میں سے کچھ مونگے پائے جو دو درہم قیمت بھی نہیں رکھتے تھے۔

گویا اس قسم کے لوگوں کا جنازہ چند لوگ پڑھیں، اہتمام نہ کیا جائے اور اہم شخصیات جنازہ نہ پڑھیں تاکہ ایسے مجرموں کی حوصلہ شکنی ہو اور انھیں خوف رہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت