فهرس الكتاب

الصفحة 2664 من 5761

کتاب: مواقیت کا بیان

2664 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّهَا وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بِالْبَيْدَاءِ فَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُهِلَّ

حضرت اسماء بن عمی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مقام بیداء میں انھوں نے محمد بن ابوبکر صدیق کو جنا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ''اسماء سے کہو وہ غسل کرے اور احرام باندھ لے۔''

(۱) حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ یہ واقعہ سفر حجۃ الوادع کا ہے۔ احرام سے قبل اسی وادی میں محمد بن ابوبکر پیدا ہوئے۔ (۲) حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا کو غسل کا حکم طہارت کے لیے نہیں تھا کیونکہ یہ تو نفاس کا وقت تھا بلکہ یہ غسل احرام کے لیے تھا۔ معلوم ہوا غسل احرام کی سنت ہے ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفاس والی عورت کو غسل کا حکم نہ دیتے، البتہ یہ واجب نہیں۔ غسل کی جگہ وضو بھی کفایت کر سکتا ہے مگر افضل غسل ہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت