1795 أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ثَابَرَ عَلَى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص دن اور رات میں بارہ رکعات (سنت) پر پابندی کرے گا، وہ جنت میںداخل ہوگا۔ (ان کی ترتیب یوں ہے:) ظہر سے پہلے چار اور بعد میں دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور فجر (کی نماز) سے پہلے دو۔''
فائدہ:
انھیں سنن مؤکدہ کہا جاتا ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں پابندی سے پڑھا ہے۔ اگر کبھی کچھ رہ گئیں تو ان کی قضا دی ہے، لہٰذا ان میں سستی نہیں کرنی چاہیے۔ سنت مؤکدہ کو بلاعذر چھوڑ دینا قابل ملامت ہے۔ عذر سے مراد سفر، مرض یا شدید مصروفیت وغیرہ ہے۔