کتاب: مواقیت کا بیان
2669 أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقُوْمَسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ فَبَيْنَا نَحْنُ بِالْجِعِرَّانَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ فَأَتَاهُ الْوَحْيُ فَأَشَارَ إِلَيَّ عُمَرُ أَنْ تَعَالَ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْقُبَّةَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ قَدْ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ بِعُمْرَةٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ قَدْ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ إِذْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغِطُّ لِذَلِكَ فَسُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَنِي آنِفًا فَأُتِيَ بِالرَّجُلِ فَقَالَ أَمَّا الْجُبَّةُ فَاخْلَعْهَا وَأَمَّا الطِّيبُ فَاغْسِلْهُ ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا مَا أَعْلَمُ أَحَدًا قَالَهُ غَيْرَ نُوحِ بْنِ حَبِيبٍ وَلَا أَحْسِبُهُ مَحْفُوظًا وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے کہا: کاش! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نزول وحی کی حالت میں دیکھوں۔ ایک بار ہم (دوران سفر میں) جعرانہ کے مقام پر تھے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تھے کہ آپ پر وحی اترنے لگی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اشارہ فرمایا کہ آجاؤ۔ میں نے اپنا سر خیمے میں داخل کیا۔ دراصل ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا جس نے جبے میں عمرے کا احرام باندھ لیا تھا۔ اس آدمی نے خوشبو بھی لگائی ہوئی تھی۔ اس نے آپ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے جبے ہی میں احرام باندھ لیا ہو؟ تو آپ پر وحی اترنے لگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وجہ سے خراٹے لینے لگے۔ کچھ دیر بعد آپ سے یہ حالت دور ہوئی تو آپ نے فرمایا: ''کہاں ہے وہ شخص جس نے ابھی مجھ سے سوال کیا تھا؟'' اس آدمی کو لایا گیا۔ آپ نے فرمایا: ''جبہ اتار دے اور خوشبو دھو ڈال، پھر نئے سرے سے احرام باندھ۔''
ابو عبدالرحمن (امام نسائیk) بیان کرتے ہیں کہ [ثُمَّ أَحْدِثْ اِحْرَامًا] ''پھر نئے سرے سے احرام باندھ۔'' کے الفاظ میرے علم کے مطابق نوح بن حبیب کے علاوہ کسی راوی نے بیان نہیں کیے، اس لیے میں ان الفاظ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
(۱) امام نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آخری جملہ ''پھر نئے سرے سے احرام باندھ۔'' درست نہیں۔ باقی راوی یہ جملہ بیان نہیں کرتے، یعنی امام صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک یہ اضافہ معلول ہے۔ (۲) صحیح یہ ہے کہ چونکہ وہ ناواقف تھا، اس لیے اسے معذور سمجھا اور کفارہ نہیں ڈالا۔ آج کل بھی اگر کوئی شخص واقعی عدم علم کی بنا پر سلہ ہوا کپڑا پہن لے، یا دوران احرام میں خوشبو لگا لے اور پتا چلنے پر فورًا ازالہ کر دے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔ جمہور اہل علم کا یہی مذہب ہے اور یہی راجح ہے۔ آخری جملے کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے آپ کو محرم ہی سمجھ۔ ورنہ میقات سے آگے جا کر تو احرام باندھنا درست نہیں اور جعرانہ تو کوئی میقات نہیں بلکہ یہاں سے قریب ہی حرم شروع ہوتا ہے۔ (۳) جو شخص بھی بھول کر مذکورہ کاموں میں سے کوئی کام کر لے تو اس کا بھی یہی حکم ہے بشرطیکہ یاد آنے پر وہ فورًا اس کا ازالہ کرے۔ (۴) میقات سے پہلے حج کا لباس پہنا جا سکتا ہے لیکن نیت میقات ہی سے کی جائے گی، لہٰذا افضل یہی ہے کہ میقات ہی سے حج و عمرے کا احرام باندھا جائے الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو، مثلًا: ہوائی جہاز کا سفر۔