فهرس الكتاب

الصفحة 2938 من 5761

کتاب: مواقیت کا بیان

2938 أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنْ الْجَنَّةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبیﷺ نے فرمایا: ''حجر اسود جنت سے ہے۔''

حجر اسود (سیاہ پتھر) کعبے کے مشرقی کونے میں نصب ہے۔ ظاہر الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ پتھر جنت سے لایا گیا ہے اور یہ کوئی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ جنت کی کوئی چیز یہاں بھیج دے۔ بعض احادیث میں ہے کہ ابتداء ً یہ پتھر دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا۔ مگر لوگوں کی غلطیوں نے اسے سیاہ کر دیا۔ (صحیح الجامع الصغیر وزیادتہ، حدیث: ۴۴۴۹) رنگ بدل جانا تو اس کائنات میں اتنا عام ہے کہ اس کا انکار کرنا حماقت ہے۔ ''غلطیوں'' سے مراد گناہ ہیں، یعنی اسے بوسہ دینے والوں اور ہاتھ لگانے والوں کے گناہوں سے سیاہ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

{یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ} (آل عمران ۳: ۱۰۶)

''اس (قیامت کے) دن کچھ ( نیک لوگوں کے) چہرے سفید ہوں گے اور کچھ (برے لوگوں کے) چہرے سیاہ۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت