فهرس الكتاب

الصفحة 4262 من 5761

کتاب: فرع اور عتیرہ سے متعلق احکام و مسائل

4262 أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُبْلِغَ عُمَرُ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا، قَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ، أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَّلُوهَا» قَالَ سُفْيَانُ: «يَعْنِي أَذَابُوهَا»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یہ بات پہنچی کہ حضرت سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے شراب بیچی ہے۔ آپ نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ سمرہ کو ہلاک کرے، اسے علم نہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی حرام ہوئی تو انھوں نے اسے پگھلایا (اور بیچ دیا) ۔

1)اﷲ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء سے اٹھانا درست نہیں۔ 2)یہ حدیث ناجائز حیلے کے بطلان پر بھی واضح طور پر دلالت کتی ہے اور یہ بھی کہ شریعت کی حرام کردہ اشیاء کو کسی بھی حیلے بہانے سے یا کسی چیز کی آڑلے کر حلال نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی قبیح حرکت لعنت کے مستحق قرار پاسکتے ہیں۔3) اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ شراب کی خرید و فروخت ناجائز اور حرام ہے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی چیز فی نفسہ حرام ہو تو اس کی قیمت بھی حرام ہی ہوتی ہے۔4) یہ حدیث مبارکہ سگریٹ، تمباکو، بیڑی، نسوار اور دیگر مسکرات ومفترات کی تجارت کی ممانعت پر بھی دلالت کرتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت