2269 أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ فَقَالَ انْتَظِرْ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ تَعَالَ ادْنُ مِنِّي حَتَّى أُخْبِرَكَ عَنْ الْمُسَافِرِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ
حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سفر سے واپس رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا: ''اے ابو امیہ! کھانا آرہا ہے۔ ذرا ٹھہرو۔'' میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: ''ادھر آؤ۔ میرے قریب ہوتا کہ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ اور نصف نماز معاف کر دی ہے۔''
(۱) رسول اللہﷺ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے فرض روزہ بھی وقتی طور پر معاف فرما دیا ہے، نفل روزے کی تو بات ہی کیا ہے، لہٰذا تو کھانا کھا سکتا ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ سفر میں نفل روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ (۲) ''روزہ اور نصف نماز۔'' مگر دونوں میں فرق ہے۔ فرض روزہ تو بعد میں رکھنا پڑے گا، اور یہ متفقہ مسئلہ ہے۔ مگر نصف نماز جو معاف ہے، وہ مستقل معاف ہے، یعنی اس کی قضا ادا نہیں کرنی پڑے گی۔ (۳) ''معاف ہے۔'' لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسافر روزہ رکھ نہیں سکتا یا نماز پوری نہیں پڑھ سکتا بلکہ یہ اس کی مرضی پر موقوف ہے۔ یہ معاف رخصت کے معنی میں ہے۔ (۴) ہر نماز نصف معاف نہیں بلکہ صرف وہ نماز جو چار رکعت والی ہے۔ ظہر، عصر اور عشاء باقی دو نمازیں پوری پڑھنی ہوں گی۔