فهرس الكتاب

الصفحة 2583 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

2583 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعَلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ الرَّائِحِ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَعَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ

حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبیﷺ نے فرمایا: ''مسکین آدمی کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے جبکہ قرابت دار کو صدقہ دینا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔''

فقیر قرابت دار اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ مستحق ہے، لہٰذا اسے دینے میں دگنا ثواب ہے۔ صدقے کا بھی اور صلہ رحمی کا بھی، مگر جس قرابت دار کے اخراجات کی ذمہ داری زکاۃ دینے والے پر ہے، اسے وہ زکاۃ نہیں دے سکتا، مثلًا: بیوی، بچے، ماں، باپ، البتہ بہن بھائیوں کو، جو الگ رہتے ہوں، زکاۃ دے سکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت