کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟
245 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْرِغُ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهُ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ
حضرت ابو سلمہ سے منقول ہے، انھوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالتے، پھر اپنی شرم گاہ دھوتے، پھر اپنے ہاتھ دھوتے، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھا کر ناک کو صاف کرتے، پھر اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالتے، پھر اپنے باقی جسم پر پانی بہاتے۔
یہ حدیث کچھ مختصر ہے۔ دیگر احادیث میں غسل سے پہلے پاؤں دھونے کے علاوہ مکمل وضو کا ذکر ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، الغسل، حدیث: ۲۴۹)