فهرس الكتاب

الصفحة 12 من 5761

کتاب: امور فطرت کا بیان

12 أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْفِطْرَةُ قَصُّ الْأَظْفَارِ وَأَخْذُ الشَّارِبِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ناخن تراشنا، مونچھیں کاٹنا اور زیر ناف کے بال مونڈنا فطرت (کا تقاضا) ہے۔''

(۱) زیر ناف کے بال صاف کرنا اس لیے فطرت میں شامل ہے کہ جماع کے وقت بڑے بال نجاست سے آلودہ ہوسکتے ہیں۔ صفائی مشکل ہوگی خصوصًا جب پانی نہ ہو یا کم ہو۔ لہٰذا انھیں مونڈنا ضروری ہے تاکہ نجاست اور بدبو سے بچا جاسکے۔ (۲) حدیث میں حلق کا لفظ آیا ہے، مگر اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی بھی طریقے سے ان بالوں کو صاف کیا جا سکتا ہے۔ مونڈ کر یا دوائی لگا کر یا اکھیڑ کر یا کاٹ کر مگر طبی نقطۂ نظر سے مونڈنا ہی مفید ہے۔ اس سے قوت مردمی بڑھتی یا قائم رہتی ہے، نیز اس حکم میں مرد و عورت برابر ہیں۔ (۳) شرم گاہ میں صرف اگلی شرم گاہ شامل ہے جبکہ بعض علماء کے نزدیک اس میں، اگلی پچھلی دونوں شرم گاہیں شامل ہیں۔ واللہ اعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت