فهرس الكتاب

الصفحة 3681 من 5761

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل

3681 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ وَعِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ وَوَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جب انسان مرجاتا ہے تو تین صورتوں کے علاوہ' اس کے سب عمل منقطع ہوجاتے ہیں۔ (اور وہ یہ ہیں:) صدقہ جاریہ' وہ علم جس سے (بعد میں بھی) فائدہ اٹھایا جاتا رہے اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔''

(۱) ''صدقہ جاریہ'' یعنی ایسا صدقہ جس کا فائدہ لوگوں کو صدقہ کرنے والے کی وفات کے بعد بھی تادیر پہنچتا رہے۔ جب تک اس کا فائدہ جاری رہے گا' تب تک ثواب بھی جاری رہے گا۔ لیکن اس سے مراد وہ صدقہ ہے جو میت نے اپنی زندگی میں خود کیا ہو نہ کہ وہ جو میت کی طرف سے اس کی وفات کے بعد کیا جائے۔ باب کے عنوان سے معلوم ہوتا ہے کہ امام نسائی رحمہ اللہ دوسرا صدقہ مراد لے رہے ہیں لیکن یہ درست نہیں کیونکہ یہاں میت کے اعمال کا ذکر ہے۔ (۲) ''وہ علم'' مثلًا: تصنیف شدہ کتابیں یا تربیت شدہ شاگرد یا کیسٹیں وغیرہ۰ (۳) ''نیک اولاد'' جس کی اس نے صحیح تربیت کی ہو اور اسے اچھے کاموں کا عادی بنایا ہو۔ (مزید تفصیل سابقہ حدیث میں ملاحظہ فرمائیں۔)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت